سعودی ولی عہد کا دورہ امریکہ اور میڈیا پروپیگنڈہ

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے متعلق کچھ کنٹروسیز پچھلے کئی ماہ سے میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں،ان کی طرف منسوب بیانات اور باتوں میں سے زیادہ تر بے بنیاد،پروپیگنڈہ اور سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے.

چند ماہ پہلے محمد بن سلمان سے متعلق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے یہ افواہ پھیلائی کہ شہزادے نے نیویارک کے نیلم گھر سے اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی 500 سالہ قدیم حضرت عیسی کی تصویر 45 ارب ڈالر میں خرید لی ہے،اس خبر کو بی بی سی سمیت دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا نے مرچ مسالہ لگا کر خوب اچھالا،امریکہ میں قائم سعودی سفارتخانے نے سختی سے اس خبر کی تردید کردی اور اسے سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ قرار دے دیا.

سعودی سفارتخانے کی تردید کے بعد نیویارک ٹائمز اور برطانوی جریدے ٹیلیگراف نے دعوی کیا کہ تصویر محمد بن سلمان نے نہیں بلکہ ایک اور شہزادہ بندر بن عبداللہ نے خرید لی ہے،شہزادہ بندر نے اپنے آفیشل ٹیوٹر اکاؤنٹ سے اس خبر کی تردید کردی،یہ پروپیگنڈہ جاری تھا کہ فرانس کے لوور میوزیم کی ابو ظبی میں کھلنے والی شاخ نے اپنے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ یہ پینٹنگ ان کے پاس ہے اور ابو ظبی کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی جائے گی.

ان دنوں محمد بن سلمان امریکہ کے دورے پر ہیں،وہاں انہوں نے مختلف اخبارات اور صحافیوں کو انٹرویوز دیے ان انٹرویوز میں سے واشنگٹن پوسٹ کو دیا انٹرویو اور جریدہ ایٹلانٹک کے صحافی جیفری گوڈلڈ بیرگ کو دیا انٹرویو کافی متنازعہ بنا کہ ہر دو میں وہابیت کے بارے سخت سوالات تھے.

واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انہوں نے جو بات کی تھی اسے سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط رنگ دیا گیا،محمد بن سلمان سے سوال یہ ہوا تھا کہ دنیا بھر میں سعودی عرب شدت پسندوں کو مالی امداد دیتا ہے،جواب میں ولی عہد کا کہنا تھا یہ فنڈنگ آپ کے کہنے پر ہی ہو رہی تھی محمد بن سلمان کا اشارہ سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران (امریکی اسلحہ،پاکستانی بندہ اور سعودی چندہ کی طرف تھا)یہ جواب ایسا ہی تھا جب امریکہ ہمیں طالبان کا طعنہ دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں جناب طالبان تو تمہارے پیارے تھے،انہیں وائٹ ہاؤس بلا کر ایوارڈز تم نے دیے تھے،محمد بن سلمان نے بھی وہی الزامی جواب امریکہ کو دیا ہے.

ایٹلانٹک کے صحافی جیفری گوڈلڈ بیرگ کے ساتھ تو شہزادے کا انٹرویو نوک جھونک ٹائپ کا رہا،وہابیت سے متعلق سوالات اور جوابات ملاحظہ فرمائیں

جیفری :

کیا یہ درست نہیں ہے کہ 1979ء بلکہ 1979ء سے پہلے بھی وہ گروہ جسے سعودی عرب میں تحفظ حاصل ہے،تیل کی انکم کو اسی گروہ نے وہابی ازم کے فروغ کے لیے خرچ کیا،وہی وہابی ازم جو اسلام میں سب سے زیادہ تعصب پر مبنی گروہ ہے جو اخوانیت کی آئیڈیالوجی کے قریب ہے.

محمد بن سلمان : 

سب سے پہلے کیا آپ اس اصطلاح وہابی ازم کی تعریف کرنا پسند کریں گے کہ کیا ہے؟ہم تو اس کے بارے کچھ نہیں جانتے ہیں.

جیفری :

کیا مطلب آپ کا کہ آپ کچھ نہیں جانتے ہیں؟

محمد بن سلمان : 

یہی کہ وہابی ازم کیا ہے؟

جیفری :

آپ سعودی عرب کے ولی عہد ہیں آپ یقینا جانتے ہوں گے.

محمد بن سلمان : 

میرے خیال میں وہابیت کی حقیقی تعریف کوئی شخص نہیں کرسکتا ہے،آپ جسے وہابی ازم کہتے ہیں وہ ہمارے ہاں نہیں ہے،ہم اپنا آئین اسلام اور قرآن کو بناتے ہیں،ہمارے ہاں دو مکتب فکر ہیں اہل سنت ہیں ان کے علاوہ اہل تشیع،اہل تشیع کو بھی مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہے،ہماری اساس لوگوں کے ایمان پر ہے،اس کے بعد تمام افراد کے مفادات کا تحفظ ہماری ترجیح ہے.”

 اب جو لوگ تاریخ کو جانتے ہیں وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ اہل سنت کے سلفی مکتب فکر نے خود کو وہابی نام سے کبھی موسوم نہیں کیا بلکہ یہ لقب انگریز نے اس لیے دیا تھا کہ یہ لوگ ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں،تب سے اب تک سلفیوں کے دیسی اور گورے مخالفین بطور طعنہ سلفیوں کو وہابی پکارتے ہیں،سو محمد بن سلمان نے بھی مغرب کی اس تعریف سے انکار کیا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کوئی گروہ نہیں ہے جو آپ کی تعریف پر پورا اترتا ہو.

اسی انٹرویو کے دوران ولی عہد سے اسرائیل اور فلسطین کے بارے بھی سوالات ہوئے لیکن بی بی سی نے بدترین صحافتی بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سرخی یوں جمائی کہ “اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے” (محمد بن سلمان ) حالانکہ یہ الفاظ محمد بن سلمان کے   نہیں تھے بلکہ ان کے الفاظ یہ تھے کہ میرا ماننا یہ ہے کہ دنیا میں تمام لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک پرامن ریاست میں رہیں،اس میں اسرائیلیوں کا ذکر کہاں سے آیا؟

آخری بات 

اس بات سے انکار نہیں کہ سعودی عرب میں کافی ساری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،مگر یاد رکھیں دین اسلام کسی ملک خطہ اور قوم کے رویوں اور پالیسیوں کا نام نہیں ہے،اسلام قرآن و حدیث کا نام ہے جو کسی ملک کی سیاست کے بدلنے سے بدل نہیں جائے گا.

سعودی عرب میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں انہیں روکنا میرے اور آپ کا کام نہیں ہے نہ ہی ہمارے روکنے سے یہ رک جائیں گی ہاں مگر جو تبدیلیاں سعودی عرب میں ابھی رونما ہو رہی ہیں کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیے گئے ہمارے ملک میں بہت پہلے رونما ہوچکی ہیں ہم اسے بدل سکتے ہیں ہمیں اپنی توانائیاں وہی لگانا چاہئے.

بقلم فردوس جمال !!!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s