یہ بیچارے خمینیت گزیدہ تحریکی ۔ اور تشدد کے ائمہ اربعہ ۔

سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہی ھے جس میں مولانا ظفر الحسن مدنی صاحب موجودہ دور میں بد امنی اور دہشت گردی پھیلنے کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ عصر حاضر کی چار شخصیات ایسی ہیں جن کی کتابوں سے عصر حاضر میں دہشت گردی پھیلی ہے۔ وہ شخصیات حسن البنا، سید قطب، مولانا مودودی اور خمینی کی ہے۔ سیاق و سباق سے کٹی ہوئی اس ویڈیو کو اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/groups/1757180607894693?view=permalink&id=2159316714347745
در اصل پوری تقریر ایک گھنٹے سے زیادہ ہے جس میں سے صرف ساڑھے تین منٹ کی کلپ کاٹ کر وائرل کر دی گئی ہے۔ اصل پوری تقریر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:

جس کے اندر مولانا نے مولانا سلمان ندوی کا تذکرہ کیا ہے اور انکے ان الزامات کو ذکر کیا ہے جن میں وہ شیخ محمد بن عبد الوہاب اور شیخ ابن تیمیہ جیسے غیور علماء پر یہ الزام لگایا کہ ان کی کتابوں کو پڑھ کر داعش جیسی تنظیموں نے دہشت گردی سیکھی ہے ۔ اسی کے جواب میں مولانا نے دلیلوں سے ثابت کیا ہے کہ یہ سراسر الزام ہے۔ القاعدہ اور داعش کے سربراہان نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے کس کی کتاب پڑھ کر متاثر ہوئے ہیں۔ اور پھر اسکی تفصیل بتائی ہے۔ جس میں خمینی، سید قطب، حسن البنا اور مودودی کا نام لیا ہے۔ (شروع میں آدھے گھنٹے تک تقریر کو سنیں بات پوری واضح ہو جائے گی)۔
پھر آپ نے مولانا مودودی کے تعلق سے بتاتے ہوئے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا جس وقت مولانا مودودی جماعت اسلامی کی تشکیل دے رہے تھے اور اس وقت مجلس میں بہت سارے بڑے بڑے علماء کے ساتھ مولانا اسحاق بھٹی بھی شامل تھے جس میں تجدید ایمان کرایا جا رہا تھا۔ یعنی مولانا اسحاق بھٹی کے مطابق اس وقت مجلس میں بیٹھے لوگ کلمہ شہادت پڑھ پڑھ کر جماعت اسلامی میں داخل ہو رہے تھے۔
چنانچہ خود مولانا اسحاق بھٹی صاحب فرماتے ہیں:
(تجدید ایمان کا لفظ میں نے پہلی بار سنا تھا، مولانا عطاء اللہ بھوجیانی صاحب سے، جن کے میں قریب ہی بیٹھا تھا پوچھا: تجدید ایمان کیا ہوتا ھے؟ فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کلمۂ شہادت پڑھ کے آج نئے سرے سے ایمان قبول کر رہے ہو!
سب سے پہلے مولانا مودودی نے کلمۂ شہادت پڑھا اور تجدید ایمان کی۔ اس کے بعد اس گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ سب حضرات اپنی اپنی باری سے کھڑے ہوکر کلمہ شہادت پڑھ رہے ہیں اور تجدید ایمان کر رہے ہیں یعنی نئے سرے سے حلقہ بگوش ایمان ہو رہے ہیں۔)
بحوالہ کتاب مولانا مودودی اور جماعت اسلامی از مولانا اسحاق بھٹی۔
در اصل اس ویڈیو کو ایک تحریکی نے وائرل کرکے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ ویڈیو ایک سال پرانی ہے جس میں مولانا اپنی بات کو مدلل انداز میں بیان بھی کر رہے ہیں اس شخص کا حوالہ دے کر جو جماعت اسلامی کے اس تاسیسی مجلس میں شریک تھا جہاں لوگوں کو مسلمان بنایا جا رہا تھا۔ آخر اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ مولانا مودودی اپنے منہج اور فکر سے ہٹے ہوئے لوگوں کو اخوانیوں کی طرح مسلمان ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اس بات کو مزید سمجھنے کیلئے اسی تاسیسی مجلس میں مولانا مودودی کا وہ خطاب بھی پڑھئے جس میں فرما رہے ہیں:
(یہ بات ہر اس شخص کو جو جماعت اسلامی میں آئے اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو کام اس جماعت کے پیشِ نظر ہے وہ کوئی ہلکا اور آسان کام نہیں ہے۔ اسے دنیا کے پورے نظامِ زندگی کو بدلنا ہے۔ اسے دنیا کے اخلاق، سیاست، تمدن، معیشت، معاشرت، ہر چیز کو بدل ڈالنا ہے، دنیا میں جو نظامِ حیات خدا سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کر خدا کی اطاعت پر قائم کرنا ہے، اور اس کام میں تمام شیطانی طاقتوں سے اس کی جنگ ہے۔ اس کو اگر کوئی ہلکا کام سمجھ کر آئے گا تو بہت جلدی مشکلات کے پہاڑ اپنے سامنے دیکھ کر اس کی ہمت ٹوٹ جائے گی۔ اس لیے ہرشخص کو قدم آگے بڑھانے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس خارزار میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ وہ راستہ نہیں ہے جس میں آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹ جانا دونوں یکساں ہوں… لہٰذا قدم اُٹھانے سے پہلے خوب سوچ لو۔ جو قدم بھی بڑھائو، اس عزم کے ساتھ بڑھائو کہ یہ قدم اب پیچھے نہیں پڑے گا۔ جو شخص اپنے اندر ذرا بھی کمزوری محسوس کرتا ہو بہتر ہے کہ وہ اسی وقت رُک جائے‘‘ ___یہ جماعت اسلامی کی تشکیل سے چند گھنٹے پہلے کا خطاب ہے۔۔۔۔۔۔۔
خطاب کے بعد سب سے پہلے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اُٹھے۔ کلمہ شہادت اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہ کا اعادہ کیا اور کہا: ’’لوگو! گواہ رہو کہ میں آج ازسرِنو ایمان لاتا اور جماعت اسلامی میں شریک ہوتا ہوں‘‘۔ ایک ایک کر کے دوسرے افراد اُٹھے ، اور اسی طرح تجدید ایمان کے ساتھ جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
جب سب، خدا سے اپنے عہد پر دوسروں کو گواہ بنا چکے، تو وہ تعداد میں ۷۵ تھے___ اور یہی ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ئ، ۲ شعبان ۱۳۶۰ھ کا وہ لمحہ تھا جب مولانا مودودیؒ نے اعلان کیا: ’’آج جماعت اسلامی کی تشکیل ہوگئی‘‘۔ (آئین، اشاعتِ خاص، جماعت اسلامی کے ۵۰سال، ص ۲۲-۲۵)
آخر اس خطاب میں موجود اس جملے ((دنیا میں جو نظامِ حیات خدا سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کر خدا کی اطاعت پر قائم کرنا ہے)) سے کیا مطلب ہو سکتا ہے؟!
اس کے علاوہ جماعت کی تشکیل کے بعد مولانا مودودی نے اپنا ایک الگ ایسا منہج بنایا جو دوسرے تمام جماعتوں سے الگ تھا۔ ایک طرف جہاں تمام مسلم جماعتیں مل کر انگریزوں سے لڑ رہی تھیں مولانا ان سب کی مخالفت کر رہے تھے۔ اور یہی مولانا جنہیں تحریکی مجدد وقت کہتے ہیں انگریزوں کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ احمد رضا کو لوگوں نے تو خوب مشہور کیا لیکن مولانا بھی تو وہی نظریہ رکھتے تھے کہ مسلمانوں کو سیاسی جماعت بنا کر انگریزوں سے نہیں لڑنا چاہیے۔ اس بات کو بھی اسحاق بھٹی کی زبانی سنیں:
((ہمارے دور طالب علمی میں ان کے پاس مولانا ابو الاعلی مودودی کا رسالہ ”ترجمان القرآن“ آتا تھا۔ اس میں مولانا مودودی کا سلسلہ مضامین ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش“ کے عنوان سے شائع ہو رہا تھا۔ جس میں برصغیر کی ان تمام سیاسی جماعتوں کی شدید مخالفت کی جارہی تھی جو آزادی ملک کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔ ان مضامین کے مندرجات سراسر انگریزی حکومت کی حمایت میں جاتے تھے۔ میں نے ایک دن مولانا اسماعیل صاحب سے یہ بات عرض کی تو فرمایا جہاں اس ملک کے اور بہت سے لوگ انگریزوں کی حمایت کر رہے ہیں، ان میں کلامی نوعیت کی ایک حمایت یہ بھی سہی۔
(راوی: محمد اسحاق بھٹی/ مروی عنہ: مولانا محمد اسماعیل سلفی/ کتاب: نقوش عظمت رفتہ: ص 171)
یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ مولانا مودودی کو مولانا ظفر الحسن مدنی صاحب نے صرف یہی کہا ھے کہ ان کی تحریروں سے بدامنی اور دہشتگردی پھیلتی ہے لیکن ان سے پہلے بریلوی اور دیوبندی علماء نے کیا کیا کہا ہے اسے بھی منظر عام پر لایا جائے تاکہ معاملہ اور بھی کھل کر سامنے آجائے۔
یہ ایک ویڈیو بھی دیکھیں جس میں ایک پاکستانی عالم مولانا کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں:

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مولانا ظفر الحسن صاحب ان لوگوں کی تحریروں کے خلاف تنہا نہیں ہیں۔ شیعوں کو چھوڑ کر تقریباً سارے مسلک کے لوگ ان کی تحریروں کے خلاف ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مولانا ظفر الحسن صاحب ہی کی ویڈیو پر تحریکی کیوں پریشان نظر آ رہے ہیں اور سوشل میڈیا میں اس وقت طرح طرح سے اپنے اپنے خیالات اور بغض وہنر کا اظہار کر رہے؟! حتی کہ بر صغیر میں تحریکیوں کے ترجمان نے تو مولانا کو معذور، مفلس، مسکین اور تہمت لگانے والا اور نہ جانے اپنی قلم کی زور پر کیا کیا کہہ ڈالا؟! حالانکہ مولانا نے دلیلوں کی روشنی میں اپنی بات رکھی ھے جس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیکر صرف جماعت اسلامی اور مذکورہ شخصیات کی تعریف کی ہے۔
کیا اسے ایک تحریکی چال کہیں گے کہ ایک طرف مخالفین کو معذور، کم علم، مسکین، مفلس، آل سعود کا ایجنٹ، دشمنان اسلام کا ہرکارہ اور اس طرح مختلف الزامات اور تہمتوں سے یاد کر کے اور مودودی کے ایک مشہور اقتباس کا حوالہ دیکر اپنے بھکتوں سے یہ اپیل کرنا کہ انکا جواب نہ دے کر انہیں انکے حال پر چھوڑ دو؟! انکے ان “دانشورانہ” چالوں پر بے ساختہ یہ شعر زبان پر آجاتا ہے:
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
شاید اس طرح کی باتیں جب یہ لکھ رہے ہوتے ہیں تو یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ پوری دنیا یا تو ہماری بھکت ہے یا بدھو ہے!
تحریکیوں کے ترجمان صاحب نے چاروں شخصیتوں میں سے خمینی کی شخصیت کو اس چالاکی سے نکال دیا جیسے تحریکیوں کا خمینی سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ حالانکہ مولانا مودودی خمینی سے بہت قریب تھے، افکار میں ہم آہنگ تھے، دونوں کے دوستانہ تعلقات تھے اور محبت کے رسالوں کا تبادلہ بھی ہوتا تھا۔ خمینی نے مودودی کی کتابوں کو اپنے ملک میں داخل نصاب بھی کردیا تھا بلکہ اگر کہا جائے کہ خمینی کے انقلابی فکر کو اسلامی رنگ دے کر عالم اسلام میں تحریکیوں کے انہیں اساطین نے پھیلایا ہے اور اس کی ترویج کی ھے تو بیجا نہ ہوگا۔
مودودی اور جماعت کا خمینی اور ایران سے کس پیمانے کے تعلقات ہیں اسکے لئے دیکھیں یہ مضمون:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1650296301750317&id=100003098884948
مزید اس ویڈیو کو دیکھیں کس طرح ایک اخوانی خمینی کی تعریف میں رطب اللسان ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1060605407406514&id=100003711941265
نیز یہ یکطرفہ نہی‌ بلکہ یہ تحریکی ان شیعوں کے یہاں بھی محبوب ہیں ورنہ کٹر رافضی شیعہ نواب صفوی یونہی نہیں کہے گا: (من أراد أن يكون جعفريا حقيقيا فلينضم إلى الإخوان المسلمين) ترجمہ: جو چاہتا ہے کہ حقیقت میں جعفری مسلک کا پکا رافضی شیعہ بن جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اخوان المسلمین کی جماعت میں شامل ہو جائے- (موقف علماء المسلمين من الشيعة لعز الدين إبراهيم: 15)
ریاستی دہشت گردی جسکا ذکر تحریکیوں کے ترجمان نے کیا ہے یہ در اصل اسی خارجی سوچ کا نتیجہ ہے جس کے حامل اخوانیوں کے اساطین رہے ہیں۔ اور جنہوں نے مسلم حکمرانوں کو طاغوتی طاقت اور مسلم رعایا کو جاہلی معاشرہ سے تعبیر کیا ہے۔ اور انہیں افکار سے متاثر ہوکر عصر حاضر کی دہشت گرد تنظیمیں جہاد اور مذہب اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔
آج جہاں ایک طرف خمینی جیسے رافضی شیعوں کے افکار ونظریات سے متاثر ہوکر رافضی متشدد تنظیمیں سنی مسلمانوں کو یمن، شام اور عراق میں قتل کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف حسن بنا، سید قطب اور قرضاوی جیسے تحریکی مرشدوں کے افکار و نظریات سے متاثر ہوکر تحریک طالبان، جبھۃ النصرۃ، القاعدۃ اور داعش جیسی متشدد تنظیمیں خود افغانستان و پاکستان، عراق وشام اور لیبیا وغیرہ سنی ممالک میں سنی مسلمانوں کو قتل کر رہیں ہیں۔
تحریکیوں کے ترجمان کا منہ میاں مٹھو بننے والا مضمون اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2131845776844589&id=1315372015158640
چاروں شخصیتوں میں مولانا مودودی کی فکر اور مسلم سماج کے تئیں انکی سوچ کے تعلق سے اوپر بات آچکی ہے اور جہاں تک خمینی کی بات ہے تو اس رافضی اور اس جیسے دیگر بہت سارے رافضی علماء کے نزدیک سنی مسلمانوں کا جان و مال حربی کافر کی طرح حلال ہے۔ اس پر دلیلیں اور شواہد بے شمار ہیں۔ بطور نمونہ اس ویب سائٹ کو دیکھ سکتے ہیں:
http://t3beer.ahlamontada.com/t16900-topic
یہ تحریکی جن اخوانی مرشدین اور سربراہوں کے تعلق سے کچھ بھی سننے سے گھبراتے ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انکے بارے میں بھی کچھ انکے افکار کو پیش کر دیا جائے تاکہ معلوم ہو جائے کہ آخر پردے کے پیچھے کیا کیا حقائق ہیں کہ جن کے بارے میں اگر کوئی کچھ کہنے کی جرأت کرتا ہے تو یہ تحریکی فوراً اسے گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسکو سب کچھ کہہ کر بھی منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے علاوہ سب کو معذور اور اپاہج سمجھتے ہیں۔ اور اپنی تنظیم کے افراد کو متہم نہ کر کے غیروں پر دشمنوں کا آلہ کار اور ہرکارہ ہونے کا تہمت لگاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ جن حدیثوں کی روشنی میں دوسروں کو نصیحت کرنے چلے ہیں وہی حدیثیں انہی پر فٹ آ رہی ہیں اور انہیں کے خلاف ہیں۔ اور خود را فضیحت دیگران نصیحت کا عالیشان نمونہ بنتے دکھ رہے ھیں۔

اخوانیت کے مرشدین وقائدین اور مسئلہ تکفیر
مرشد اول حسن البنا:
مودودی اور خمینی کے بعد اخوانیوں کے مرشد اول بانی تنظیم حسن بنا کے افکار پر ایک ہلکی نظر ڈالتے ہیں۔ چنانچہ حسن البنا کہتے ہیں:
((وإنما نعلن في وضوح وصراحة أن كل مسلم لا يؤمن بهذا المنهاج ولا يعمل لتحقيقه لاحظ له في الإسلام ، فليبحث له عن فكرة أخرى يدين بها ويعمل لها.)) ترجمہ: بیشک میں پوری صراحت اور وضاحت کے یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو بھی مسلمان ہمارے اس منہج (اخوانیت) پر ایمان نہیں لاتا اور اسے پھیلانے کیلئے کوشش نہیں کرتا اسلام میں اسکا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ کوئی دوسری فکر دین سمجھ کر اپنا لے اور اسی پر عمل پیرا ہو جائے۔
تفصیل کیلئے دیکھیں حسن البنا کا یہ مجموعہ:
(مجموع رسائل البنا ص86).
http://islamport.com/w/amm/Web/4736/194.htm
ایک جگہ فرماتے ہیں: ((وموقفنا من الدعوات المختلفة.. أن نزنها بميزان دعوتنا فما وافقها فمرحباً به ومن خالفها فنحن برآء منه!!.))
ترجمہ: دوسری دعوتی تحریکوں کے تعلق سے ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم انہیں اپنی تحریک کے میزان پر پرکھیں اگر ہمارے موافق ہیں تو خوش آمدید اور اگر مخالف ہیں تو ہم ان سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔
(مجموع رسائل البنا ص17).
اپنے دعوتی مذکرات میں کہتے ہیں:
“فدعوتكم أيها الإخوان المسلمون أحق أن يأتيها الناس ولا تأتي أحدا إذ هي جماع كل خير وغيرها لا يسلم من النقص”
ترجمہ: اے اخوانی بھائیو! صرف تمہاری دعوت ہی اس لائق ہے کہ لوگ اسے قبول کریں اور دوسروں کے پاس نہ جائیں کیوں کہ ہر خیر اسی میں موجود ہے جبکہ دوسری دعوتی تحریکیں نقص سے محفوظ نہیں ہیں۔
[مذكرات الدعوة والداعية ص 232 ]
یہ تحریکی کہتے ہیں کہ حسن البنا ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں حالانکہ حسن البنا نے اخوانیوں کے ساتھ مل کر شاہ فاروق کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی تھی اور اسی جرم میں انہیں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ اس بات کا اقرار کوئی دوسرا نہیں انہیں کے گھر کا تیسرا مرشد عام عمر تلمسانی نے خود کیا ہے۔ دیکھیں تلمسانی کی یہ کتاب:
(الملهم الموهوب حسن البنا ص 21).
شاہ فاروق کے دور میں اخوانیوں پر کئی وزراء اور سرکاری اہل کاروں کے قتل کا الزام آیا اور اس جرم میں یہ سب پکڑے بھی گئے۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ان کتابوں اور ویب سائٹ کو:
مع الإمام الشهيد لمحمود عساف ص 153
وعرفت الإخوان ص 52- 54
قافلة الإخوان ص 230.
https://m.alwafd.news/تحقيقات-وحـوارات/314073-اغتالوا-«النقراشي»-و«ماهر»-و«الخازندار»-وأسسوا-تنظيماً-لردع-المعارضين
کائد اعظم: سید قطب:
سید قطب موجودہ مسلم معاشرے کی تکفیر کرتے تھے اور اسے دور جاہلی کا نمونہ اور مرتد سمجھتے تھے۔ دیکھیں انہی کی مشہور کتاب:
في ظلال القرآن (2-1057)
سید قطب مسلمانوں کی مسجدوں میں جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ دیکھیں علی عشماوی کی کتاب: (التاريخ السري ص 80).
اصل وجہ بتاتے ہوئے سید قطب کہتے ہیں: ((إنه ليس على وجه الأرض اليوم دولة مسلمة ولا مجتمع مسلم ، قاعدة التعامل فيه هي شريعة الله و الفقه الإسلامي))
ترجمہ: کرہ ارض پر اس وقت کوئی ایسی مسلم حکومت اور مسلم سماج موجود نہیں ہے جہاں اسلامی شریعت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں تعامل ہوتا ہو۔
سید قطب کی اس تکفیری فکر کو دیکھیں انکی مشہور کتاب: (في ظلال القران ج4 / ص 2122 .)
پتہ جلا جناب اسلامی سوسائٹی کو کافر سمجھتے ہیں۔ اور یہ فکر سید قطب کی کتابوں میں جا بجا ملے گی جس میں مسلم سماج کو کبھی جاہلیت کے دور سے تعبیر کرتے ہیں تو کبھی اہل کتاب کے حکم میں گردانتے ہیں، مسلم حکمرانوں کو طاغوت سے اور اسلامی حکومتوں کو طاغوتی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ یوسف قرضاوی کہتے ہیں:
​” في هذه المرحلة ظهرت كتب سيد_قطب التي تمثل المرحلة الأخيرة من تفكيره الذي ينصح بتكفير المجتمع وإعلان الجهاد الهجومي على الناس كافَّة “. !!!​ [أولويات الحركة الإسلامية ص 110 ].
ترجمہ: سید قطب کی کتابیں اسی مرحلے میں آئیں جسے ان کی تکفیر کا آخری مرحلہ کہا جاتا ہے جس میں آپ سماج کی تکفیر کی نصیحت کرتے ہیں۔ اور اس کے خلاف اعلان جہاد کا مشورہ دیتے ہیں۔
اخوان المسلمین کو چھوڑ کر باقی سارے مسلمان اہل کتاب (یہود ونصاری) کے حکم میں ہیں۔ علی عشماوی کہتے ہیں:
​” جاءني أحد الإخوان وقال لي إنه سوف يرفض أكل ذبيحة المسلمين الموجودة حاليًّا، فذهبت إلى سيد قطب وسألته عن ذلك، فقال : دعهم يأكلوها ويعتبرونها ذبيحة أهل الكتاب، فعلى الأقل المسلمون اليوم هم أهل كتاب “. !!!​ [التاريخ السري ص 80 ].
ہماری جماعت کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ہم اس وقت کے مسلمانوں کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا۔ یہ سن کر میں سید قطب کے پاس گیا اور اس بارے میں استفسار کیا تو آپ نے فرمایا: اسے کہو کہ انہیں اہل کتاب سمجھ کر ان کا ذبیحہ کھا لیں۔ علی الاقل اس وقت مسلمان اہل کتاب ہیں۔
سید قطب کا جیسا عقیدہ تھا اسی طرح انکا عمل بھی تھا چنانچہ انہوں نے حاکم وقت کے خلاف خروج وبغاوت کیا، اور تختہ پلٹنے، سرکاری املاک کو تباہ کرنے نیز سرکاری اہل کاروں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے اور اپنے جرم کا اعتراف ہی نہیں بلکہ اسے جرم ہی نہیں سمجھا۔ اور اسی منہج پر عمل کرتے ہوئے سارے تحریکی اس طرح کے عمل کو جرم نہیں سمجھتے ہیں۔ دیکھیں انکی کتاب:
(لماذا أعدموني) ص50-61.
سید قطب کو پھانسی کیوں دی گئی اس پر مزید جانکاری کے لئے میرا یہ مضمون دیکھیں:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1712411225538824&id=100003098884948
مرشد ثانی حسن الھضیبی:
آخر اخوانی جماعت کو تکفیری کیوں نہ کہا جائے جب ان کے بڑے بڑے مرشدین اپنے علاوہ کسی کو مسلم مانتے ہی نہیں؟! چنانچہ انکے دوسرے مرشد حسن ھضیبی نے مصری فوج کی تکفیر کی ہے۔ دیکھیں محمود عبد الحلیم کی کتاب:
(الإخوان المسلمون أحداث صنعت التاريخ: 3-418).
حسن ھضیبی کہتے ہیں: ((دعوة الإخوان المسلمين هي لا غيرها الملاذ والإنقاذ والخلاص، وعلى الإخوان ألا يشركوا بها شيئاً.))
ترجمہ: اخوان المسلمین کی دعوت ہی میں پناہ، چھٹکارا اور نجات ہے چنانچہ اخوانیوں پر واجب ہے کہ اس جماعت کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
(قافلة الإخوان ص 298)
حسن ھضیبی ہی نے سید قطب کی تکفیری کتاب معالم فی الطریق کی طباعت کی اجازت دی تھی۔ زینب غزالی نے اسکا ذکر اپنی کتاب (أيام من حياتي ص 43) میں کیا ھے۔
حسن ھضیبی سید قطب کے بارے میں کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ استاذ سید قطب کی فکر اخوانی فکر سے کچھ بھی مختلف ہے۔ (إنه لا يعلم أن للأستاذ سيد قطب فكراً يغاير فكر الإخوان). (قافلة الإخوان).
اخوان المسلمین کے منتظم اعلی علی عشماوی:
ان کا عقیدہ ہے کہ جو اس اخوانی جماعت سے منسلک نہیں ہے وہ مسلمان نہیں ہے ‌۔ اخوانیوں کے مشہور عالم علی عشماوی کہتے ہیں:
​” من أراد أن يلحق بنا فهو مسلم، ومن وقف ضِدَّنا فقد حكم على نفسِهِ بالكفر “. !!!​ [ التاريخ السري لجماعة الإخوان المسلمين ص 94 – 95 ].
ترجمہ: جو ہم سے ملنا چاہے وہ سن لے کہ وہ مسلمان ہے۔ اور جو ہمارے خلاف ہوا وہ کافر ہوا۔
اخوانی رکن کبیر فتحی یکن:
اس اخوانی نے تو تکفیری فکر میں اس حد تک غلو کیا ہے کہ شاید آج تک اتنی جرات مندانہ اقدام کسی بھی تکفیری نے نہیں کیا ھوگا۔ پڑھیں اور سر دھنیں:
((واليوم يشهد العالم أجمع ردة عن الإيمان بالله، وكفراً جماعيًا وعالميًا لم يعرف له مثل من قبل.))
ترجمہ: اس وقت سارا عالم مرتد ہے، سب کے سب اجتماعی پیمانے پر کفر کے مرتکب ہیں اور اس طرح کفر وارتداد کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
(كيف ندعو إلى الإسلام ص 112).
معروف اخوانی عالم سعید حوی:
جناب گل افشانی کرتے ہوئے کہتے ہیں: (لقد واجهت الحركة الإسلامية المعاصرة ردة عن الإسلام تكاد تكون أخبث من الردة الأولى.)
ترجمہ: معاصر اسلامی تحریکیں جس طرح ارتداد کا شکار ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ پہلی ارتداد سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔
(المستخلص في تزكية النفس ص 8).
سابق مرشد محمد مہدی عاکف کہتے ہیں:
(إن دور الإخوان المسلمين هو إثارة وعي المواطنين للتحرك ضد الحكام.)
ترجمہ: یقینا إخوان المسلمین کا کردار یہی ہے کہ باشندگان ملک کو حکمرانوں کے خلاف ابھار کر انکے اندر تحریکی روح پھونکی جائے۔
(إخوان أون لاين 31/ 7/ 2006م).
یعنی تحریکیوں کا کام ہے یہی ہے کہ مسلم نوجوانوں کو بہکا کر اپنے جال میں پھنسایا جائے پھر انہیں اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا جائے یعنی انہیں حکمرانوں کے خلاف خروج وبغاوت پر ابھارا جائے۔
اخوانیوں کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل دونوں ویب سائٹس کو بھی دیکھیں:
http://alwatan.kuwait.tt/mobile/marticledetails.aspx?id=196056&yearquarter=20122
http://www.al-jazirah.com/2014/20140326/ar2.htm
نوٹ:
آخر میں یہ عرض بھی کروں گا کہ اس طرح کے خارجی اور باغیانہ افکار و نظریات سلفی اور اہل حدیث علماء کے یہاں قطعا نہیں ہیں۔ چنانچہ جس طرح سلمان ندوی نے سلفی علماء پر خارجیت کا لیبل لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اس پر وہ کبھی بھی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے اور شاید انہیں بدنام کرنے اور بے جا تہمت لگانے کا نتیجہ ھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود ذلیل ورسوا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
(ڈاکٹر اجمل منظور)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s