تحریکی سلفیت کے نرغے میں – ڈاکٹر اجمل منظور

آل خمینی کی سوار فوج/دلیلوں کی بانگی
بقلم شعبان بیدارؔ
ہمارے بعض بزرگوں نے مسلسل منافقت، جھوٹ، سور، شراب، غلام، کتا، بلی والی پوسٹوں سے کتاب چہرہ بگاڑ رکھا ہے اور جب چھیڑنے والے مشائخ کرام کو نوجوان لوگ چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے تو انہیں نادان سلفی کے مبارک لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ بھلا سوچیے اگر بڑھاپے کے سرد لہو کی حرارت ایسی ہے جو مرغی اور بکرے سے آسودہ نہیں ہوتی تو اقبال کے جوانوں کا لہو کیا ایسے حریص جبڑوں کی رفتار بھی روکنے کا حق نہیں رکھتا۔
آل سلول، آل یہود، امریکہ کے ایجنٹ، آمر، منافق، سود خور اور شرابوں والے، زنا کی محفلیں رچانے والے کیا کیا القاب ہیں جو رواداری کے دعویداروں کی طرف سے بہ تسلسل عطا کیے جارہے ہیں اور صرف دفاع کرنے والوں کو متعصب اور مقلد ریالی کا حسین طعنہ دیا جاتا ہے ظالم مظلوم بنا ہوا ہے اور مظلوم ظالم۔
جناب من! آپ حضرات کا کلمہ سیاست اور بغاوت کے خمیر سے تیار ہوا ہے، سو آپ از روئے سیاست کسی کو غلام جانیں اور کسی کو غلاموں کا غلام جانیں کوئی نئی بات نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کی عنایت کردہ غلامی کا تاج ہم اپنے سر پر تبرکا سجا بھی لیں تو کیا اس غلامی کا داغ مٹ جائے گا، جس غلامی میں آپ ابتداء سے مبتلا ہیں؟ اصل واقعہ یہ ہے کہ آپ حضرات نے دینی، مذہبی، مسلکی اور فکری غلامی کو مفروضہ سیاسی غلامی کے مقابلے معمولی سمجھا ہوا ہے، بلکہ یہ غلامی آپ کو سرداری کا احساس دلاتی ہے، اس کے لیے آپ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا اصل انطباق بھی غلیظ مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے نہیں چوکے اور اب تو پاکی دامن کے تار تھامے حضرت کے فرشتے بھی کتوں اور سوروں کی مجلس میں رونق افروز ہونے لگے ہیں۔
جملے بازیوں اور طرح طرح کی باتوں میں ہم آپ کا وقت خراب کرنا چاہتے ہیں نہ اپنا ، سو آئیے کچھ اپنی دینی مذہبی اور مسلکی غلامی کی دلیلیں لے لیجیے۔ یاد رہے سیاسی غلامی کا دور عارضی ہوتا ہے لوگ اپنے اقتدار اور اپنی دنیا کے لیے کسی کی آقائی تسلیم کر لیتے ہیں مگر جب پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں تو آقا کو آنکھ دکھانے لگتے ہیں، سو یاد رکھیے کہ دینی غلامی صدیوں ساتھ نہیں چھوڑتی کیوں کہ یہ غلامی سرمایۂ شعور اور وجہ افتخار بن جایا کرتی ہے اور اس وقت آپ لوگوں کی اصل ٹریجڈی یہی ہے۔
سماعت فرمائیں حاضر کر رہا ہوں
بات علامہ قرضاوی کے ارشادات سے شروع کی جائے تو زیادہ بہتر ہو، علامہ ان عیسائیوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں جن عیسائیوں کے آل سعود غلام ہیں
’’ہمارے مابین تمام مسائل و معاملات مشترک ہیں، ہم سب ایک ہی وطن کے سپوت ہیں، ہم ایک ہی امت کے لوگ ہیں (قومیت) میں ان کے تعلق سے جب ہمارے عیسائی (مسیحی) بھائیوں، کی تعبیر استعمال کرتا ہوں تو بعض حضرات چیں بہ جبیں ہوتے ہیں کہ میں عیسائی بھائی‘‘ کیسے کہہ پاتا ہوں (سنو) [انماالمؤمنون اخوۃ] ہم ایمان والے ہیں اور وہ لوگ ایک دوسرے ناحیہ سے ایمان والے ہیں‘‘۔
قارئین کمال کا سوء اتفاق ہے کہ جس طرح بعض بزرگوں نے حضرت براءؓ کی روایت ’’انصار سے مومن محبت کرے گا اور منافق بغض رکھے گا‘‘ کو ’’اخوان‘‘ پر چسپاں کر دیا تھا ہمارے علامہ نے بھی [انماالمؤمنون اخوۃ] کی تفسیر میں عیسائیوں کو داخل کیا ہوا ہے۔
اگر آنکھوں میں کچھ دم ہے تو اے رندان ہند ساغر و مینا کی یہ بوتلیں بھی شاید بار نگاہ نہ ہوں!
….‘‘علامہ قرضاوی فرماتے ہیں: ’’ان العداوۃ بیننا و بین الیہود من أجل الأرض لا من أجل الدین
ہماری اور یہودی کی دشمنی از روئے دین نہیں از روئے زمین ہے۔
فرمان قرضاوی سے حسن ظن رکھتے ہوئے یہاں مثبت مفہوم نکالنے کی مکمل گنجائش موجود تھی مگر علامہ نے آیت قرآنی کا جو انطباق فرمایا اس نے خیال تازہ کا ہر سوراخ بند کر دیا ہے، فرماتے ہیں:( لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ) والی آیت در اصل عہد نبوی کے حالات کے پس منظر میں ہے اس کا تعلق موجود ہ حالات سے نہیں ہے۔
مجھے یقین ہے کہ دینی اور مذہبی غلامی سے سرشار بے غرض بندے ان فرمودات پر نگاہ عبرت ضرور ڈالیں گے سو اتنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ (الرد علی القرضاوی نا صر بن حمد الفہد:1420)
رہ گئی غلامی کی وہ امرت دھارا جس کے سبب مذکورہ بالا قسم کے ترقی یافتہ خیالات کا استقرار اور ولادت تحریکی قوم میں جاری و ساری ہے، وہ ہے رافضی غلامی۔ اس غلامی کی کچھ نشانیاں ایک پرانی قلم آرائی میں تحریکی قوم کے حوالے کی جا چکی ہیں، مگر پوری قوم پر موت کا سناٹا تادم تحریر طاری ہے اور جب کوئی کبھی چھیڑ دیتا ہے تو کہا جاتا ہے ہر چیز جواب کے قابل نہیں ہوتی۔
ہنسی آئی اس نیاز مند بے نیازی پرکہ یہ لوگ کھونکھ کھِکھار کا جواب دینا تو ضروری قرار دیتے ہیں، ذرا سی آہٹ پر ان کے شور سے زمین و آسمان لرز جاتے ہیں، ان کے بچے بوڑھے سب آستینیں سمیٹے باہر نکل آتے ہیں مگر جس چیز نے ان کے دین و ایمان اور منہج پر سوالیہ نشان لگا رکھا ہے اسے مسکرا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ بہر کیف غلامی کے سوتے میں ایک بار پھر ڈبکی لگا لیتے ہیں!
:عرض کیا ہے
راشد الغنوشی ’’الحرکۃ الاسلامیۃ والتحدیث‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’ان المفہوم یستھدف اقامۃ المجتمع المسلم والدولۃ الاسلامیۃ علی أساس ذلک التصور الشامل، وھذا المفہوم ینطبقعلی ثلاث اتجاھات کبری: الاخوان المسلومن، الجماعات الاسلامیۃ بباکستان، و حرکۃ الامام الخمینی فی ایران‘‘۔
جماعت اسلامی لبنان کے سابق ناظم عمومی فتحی یکن اسلامی بیداری کے مدارس کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں: ینحصر فی ثلاث مدرسۃ حسن البناء، و مدرسۃ سید قطب، و مدرسۃ الام الخمینی‘‘
قارئین غور فرمائیے خمینی محض سیاسی آئیڈیل نہیں ہیں، وہ اسلامی بیداری کے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں اور اسلام کا حقیقی اور جامع مفہوم کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو ایران میں امام خمینی کی تحریک پاکستان کی اسلامی تحریکوں اور اخوان المسلمون کی تصویر دل و نظر کا قرار بنا لیجیے۔
اخوان کے رہنما محمد عاکف فرماتے ہیں: ’’جعفری شیعہ اصول عقائد میں ہمارے ساتھ متفق ہیں اور ہم انہیں اپنا دینی بھائی  سمجھتے ہیں‘‘ – مجلۃ المختار الاسلامی288/30
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی
قارئین دھوکے میں مت رہیے اور ان کی چکنی چپڑی باتوں اور چکنے چپڑے لٹریچر سے چوکنا رہیے، یہ کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہے، صاف کہا جا رہا ہے کہ اخوان اور روافض کے بنیادی عقائد ایک ہیں۔
آخر اس غلامی کو ہم کیا نام دیں؟
یہ کہانی میں دہرانا نہیں چاہتا تھا مگر یاد دہانی کے طور پر کچھ چیزیں رقم ہو گئیں، میں اپنی تشدد آمیز قلم کاری پر معذرت خواہ ہوں، آئیے ایک نئی غزل سماعت کرتے ہیں
:اخوانی مجاہدین کے نور نظر بن لادن فرماتے ہیں
’’اے امت مسلمہ اٹھو! ظلم و سرکشی کے خلاف انقلاب برپا کردو، غدار حکومتوں کے لیے سول نافرمانیوں اور مظاہروں کے ذریعے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرو اور یہ ائمہ کفر و نفاق جو اپنے دین سے مرتد ہو چکے ہیں، جنھوں نے اپنی قوم کے ساتھ غداری کی ہے اور انھیں قتل کیا ہے اٹھو اور انھیں اکھاڑ پھینکو۔‘‘(دلیل الحرکات الاسلامیہ:29
اور خلیفۃ المسلمین امیر قطر کے مبارک چینل الجزیرہ میں تو تمام امراء و ائمہ مسلمین کو صراحتاً مرتد قرار دیتے ہیں۔ (4/1/2014
:ایک دوسری جگہ یہ خارجی یوں گویا ہے
’’یہ سارے حکام مرتد ہو چکے ہیں یہ اللہ اور رسول سے جنگ کر رہے ہیں انھیں مسلمانوں پر حکمرانی کرنے کا کوئی جواز نہیں……. لیکن آپ (ابن باز) کے فتوے نے ان سیکولر حکومتوں کو حکومت کرنے کا حق دے دیا ہے….‘‘ (توجیہات منہجیۃ:25)
فرماتے ہیں: ’’…. یہ دینارو درہم کے بندے منافقین علماء دعوی کرتے ہیں کہ یہ حکمران ہمارے امراء اور گورنر ہیں…‘‘ (توجیہات منہجیۃ:22
1423؍ ہجری میں ریاض میں بم دھماکہ ہوتا ہے اس دھماکے پرظل سبحانی امیر قطر کے الجزیرہ چینل پر خارجی یوں بیان دیتا  ہے
جس فتوی پر چند لوگوں نے دستخط کیے تھے اس پر میں نے بھی دستخط کیے تھے، اس فتوے میں جہاد پر لوگوں کو ابھارا گیا تھا………. چنانچہ ان میں چند وہ اخوان بھی شامل تھے جنھوں نے شہر ریاض میں بم دھاکہ کیا

:قارئین ایک دوسرے بدنام زمانہ اخوانی الفکر خارجی ایمن الظواہری کے خیالات پر بھی نگاہ ڈالتے چلیں
’’ابن باز اور ان کی جماعت کے علماء سب درباری مولوی ہیں، جو ہمیں اپنی تنخواہوں اور منصبوں کے عوض ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں بیچتے رہتے ہیں….. ایمان کا تقاضا ہے کہ کفار کا کام تمام کرنے سے قبل ان دھوکے باز منافقوں کا کام تمام کیا جائے۔‘‘(مجلہ المجاہدون شمارہ نمبر 3011؍شعبان 1415ھ بروز بدھ
’’……. ان کے (علماء) یہ حکمراں امریکہ کے ایجنٹ اور غلام ہیں وہ انھیں جیسا چاہتا ہے استعمال کرتا ہے (یوں یہ علماء غلاموں کے غلام ہوئے) (مجموعہ رسائل و توجیہاتہ:442)
قارئین دیکھ لیجیے یہ امریکہ کے غلاموں اور غلاموں کے غلاموں کا طعنہ کہاں سے ماخوذ ہے اور کون سی فکر رہنمائی کر رہی ہے۔
یہ خارجی کہتا ہے ’’آج امت مسلمہ کا کوئی حاکم مسلم ہے اور نہ ہی کوئی مسلم ملک ہے۔ ‘‘ (کتاب التبرئۃ:166بات تب مکمل ہوگی جب مذکورہ بالا افکار و تخیلات کے سوتوں کی نشاندہی ہو جائے، یہ سوتے در اصل بعض اخوانی قائدین اور علماء ہیں ان میں ایک بڑا اور محترم نام سید قطب علیہ الرحمہ کا ہے، فرق یہ ہے کہ سید قطب اور دیگر فکری رہنما اپنی فکر کو انتہائی حسین انداز میں پیش کرتے ہیں
سید صاحب اپنی کتاب معالم فی الطریق میں فرماتے ہیں
ثم لابد لنا من التخلص من ضغط المجتمع الجاھلی والثورات الجاہلیۃ والقیادۃ الجاھلیۃ‘‘-18-19’’
نحن الیوم فی جاھلیۃ کالجاھلیۃ التی عاصرھا الاسلام أو اظلم کل ماحولنا جاھلیۃ…‘‘ -17’’
کانوا یعرفون الالوھیۃ تعنی الحاکمیۃ العلیا….. معناہ نزع السلطان الذی یزاولہ الکھان مشیخۃ القبائل والامراء والخدام۔‘‘ -22’’
اہل عرب کلمہ کا کیا معنی سمجھ رہے تھے اس کی وضاحت میں کہتے ہیں
ثورۃ علی السلطان الارضی….. ثورۃ علی الأوضاع…. خروج علی السلطات التی…..‘‘ 22’’
.فرماتے ہیں
وھو رد الحاکمیۃ لعل فی أمرھم کلہم و طرد المعتدین علی سلطان اللہ ‘‘(35’’
ھذہ الجاہلیۃ التی واجھھا رسول اللہ بالدعوۃ الی الاسلام‘‘ (47’’
سید قطب صاحب کی پوری کتاب اسی نکتے پر مرکوز ہے، سید ہر چیز سے بغاوت کا رس نچوڑ لاتے ہیں ہاں مگر انداز ایسا علمی، پر زور اور رمزی قسم کا ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
الغرض نیچے سے اوپر تک فکری انحراف، منہجی تضادات، اعتقادی گڑبڑی، دینی غلامی اور مسلکی آوارگی کا یک لامتناہی سلسلہ ہے، ایک جانب انھوں نے حاکمیت الٰہ اور طاغوتی نظام کے پس منظر میں کفر و شرک کی بنا قائم کر رکھی ہے۔ ان کے سحر طراز لٹریچر پڑھنے والے کے نزدیک شاھی حکومت اور ملوکیت ایک ناپاک جسارت اور یہود و نصاری کی غلامی نظر آتی ہے مگر تماشا یہ ہے کہ دوسری طرف ووٹ کی سیاست کرتے ہیں۔ آمروں اور بادشاہوں کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، متعہ زادوں کی محفل آرائیوں اور حسن ایران کے جمال نظر فریب کے آزاد قیدی بنے بیٹھے ہیں۔
ارے جناب آپ کب اپنی جسارتوں کا اعتراف کیجیے گا کہ ہم ناموس صحابہ کے اقراری مجرم ہیں؟ آپ نے تو امت کی ماؤں کا کفن بیچا ہے، آپ رقیہ زینب و حفصہ کے دوپٹوں کو پھریرا بنانے کے مجرم ہیں، آپ ہاں آپ ہی نے صدیق و فاروق کے خون کی سرخیوں کا سیاہ سودا کر رکھا ہے۔
کبھی اہل حدیثوں کو یہودی اور عیسائی ایجنٹ کہنے سے فرصت ملے تو اپنے اس عقیدے کی طرف ایک نگاہ ڈال لیجیے گا کہ ووٹ ڈالنا شرک ہے، ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف چپ رہنا نظام باطل کی تائید ہے اور دوسری طرف اپنی عملی رواداری پر بھی عبرت کی نظر کر لیجیے گا کہ ایک آدمی بکرے جیسا کتا خرید کر لاتا ہے اور دوسرا کلہاڑی سے وار کرتا ہے تیسرا یا حسین صدقے پڑھتا ہے اور اس کے بعد سب بسم اللہ کہہ کر تناول فرماتے ہیں اور آخر میں پوری مجاہدانہ شان سے الحمداللہ الذی اطمعنا و سقانا و جعلنا من المسلمین پڑھ کر کہتے ہیں ہم حکومت الٰہیہ قائم کریں گے۔
تف ہے ایسے مجاہدین پر جو غلیل چلاکر میزائلوں کا رخ بدل دیتے ہیں اور اہل سنت کا قتل کراتے ہیں، پھر سنی بیواؤں اور یتیموں کے لیے ایرانی کھجور کی بوریاں آتی ہیں جس کے بدلے ان معصوموں کو اپنے عقیدے سے سمجھوتہ کرتا ہوتا ہے۔ آخر سنی عقیدے کا سودا کرا کر کس فلسطین کی آزادی کی باتیں آپ کرتے ہیں۔
کہانی لمبی ہے ابھی مجھے آپ لوگوں کی نستعلیق گالیاں کھانے کا شوق جاگا ہے ان شاء اللہ پھر ملاقات ہو سکتی ہے، مگر آپ ہی کے نئے قصیدوں اور زیادہ پرزور غزلوں کے ساتھ۔ اللہ حافظ۔
خاک پائے ندوی شعبان بیدار صفاوی
30؍جون2017

2=دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
بقلم شعبان بیدار

(ایرانی وفد سے جماعت اسلامی کے قائدین کی ملاقات پر ہوئی گفتگو تناظر میں *رضی الاسلام صاحب* کا *جواب الجواب*)

خاکسار ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کا باضابطہ شاگرد تو نہیں مگر مستفیدین میں سے ضرور ہے ان کے محاضرات اور ہفت روزہ ورکشاپ میں شامل رہا ہے ۔ *ڈاکٹر صاحب کا ایک خاص وصف میں نے پایا کہ آڑی ترچھی کانٹے دار شاخوں کو نکال کر اصل لاٹھی برآمد کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے ۔ ’’على العيس نور والخدور كمائمهٗ‘‘* اونٹ پر کلی کی جلوہ طرازی ہے اور پردے اس کے غلاف ہیں مگر نہ جانے کون سی زاہد انہ خوٗ بیدار ہوئی کہ کلی کی نازو ادا سے مولانا نے آنکھیں پھر لیں اور جھلملاتے پردوں کے سحر کا شکار ہوگئے ۔
نظر ڈالی بھی تو ایسی کہ سیرابی خاطر کا بھر پور ساما ن نہ ہو سکا ۔
جوابی تحریر کا جو بیت الغزل تھا وہ یہی کہ روافض ، اخوان اور جماعت اسلامی کی جو تثلیث ہے اس کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اسے معمول کی ملاقات کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا ۔ *مولانا نے ’’ جھوٹ ‘‘ کی جو فہرست تیار فرمائی ہے اس میں بیشتر نکات کی حقیقت جھوٹ اور سچ کی نہیں صحیح اور غلط کی ہے،* وہ دراصل تجزیات ہیں جن سے اتفاق ضروری نہیں مولانا کہہ سکتے تھے یہ باتیں غلط ہیں مگر انہیں جھوٹ کہنا تعبیر کا فتنہ ہے *اس میں بھلا کیا شک ہے کہ اہل سنت میں رافضیت کے دخول کا سب سے بڑا دروازہ تصوف کا رہا ہے اور اب یہ دوسرا دروازہ باب تحریک یعنی اخوانیت اور جماعت ہے ۔* ان دونوں دروازوں سے عقائد و سیاست ، کے رافضی مبلغین نے تما م عالم اسلام میں جو تباہی مچا رکھی ہے وہ کسی بھی اہل نظر سے مخفی نہیں ہے ۔اور ہاں ذاتی طور پر سرے سے ہمیں کسی تحریر کا علم ہی نہیں کہ جماعت کے خلاف کیا کچھ لکھا گیا ہے اس لئے انہیں سلفیوں کے سر ڈالنا درست نہیں ہے ۔
*میری جان کو تو یہ ڈر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں ڈاکٹر صاحب سہ روزہ دعوت کی فائل نہ طلب کرلیں، کانتی کے شمارہ کا عکس نہ مانگ لیں کہ اتنی پرانی فائلیں ڈھونڈ نکالنا کار دشوار تھا ۔ مگر افسوس!*
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکا ر کی دنیا کو سحر کر نہ سکا
معاف کیجئے گا میں غلط کہہ گیا کہ جماعت اسلامی کے ارباب قلم ایران کے افکار کو اہل سنت کے لئے مدبّر کر رہے ہیں ۔ صحیح بات تو یہ ہےکہ ہمارے یہ احباب پورے رافضی نظام کے مخلص مبلغ بن بیٹھے اگر ان کا بس چلتا تو یہ سوڈان ، بحرین ،یمن اور لبنان میں آقائے خمینی کے آستانے تعمیر کرواتے تاکہ عالم اسلام رہبر ماست کے انقلاب اسلامی سے کما حقہ فیضیاب ہوتا ’’انڈین ایڈیشن ہونا ‘‘ تو ایک معمولی بات ہے اخوانی احباب اور رفقاء جماعت دراصل روافض کے میڈیا سیل ہیں جو بڑے تدبر سے شعوری غیر شعوری مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں ہمارے بعض احباب کہہ رہے ہیں کہ ان کے یہاں روافض کے تئیں محض لچک ہے ،ہر گز نہیں یہ صریح خوش گمانی ہے دراصل اخوان اور جماعت بروقت روافض کے لئے مدعو جماعتوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور بس۔
*اگر بار خاطر ہوتو مالی امداد کو شاعرانہ ادا مان لیں اور یہ کہئے کہ خلوص کا جو عالم ہے وہ بروز ن ’’ للہ فی اللہ ‘‘ للرافض فی الروافض کی پالیسی پر قائم تھا ۔ابھی آج ہی آٹھ دس مضامین شام کے بحران پر نظر سے گزرے ہر مضمون میں روس اور بشار کے لئے نوک قلم میں غضب کی تیزی نظر آئی اور بین السطور گواہی دے رہا تھا کہ ایران کو رہ رہ کے بچانے کی سعی نا مشکور ہورہی ہے ۔*
مولانا ممدوح میری دانست میں صاف دل ہیں اور *’’ المر ء یقیس علی نفسہ‘‘* کے تحت جماعت کے مجموعی عمل کو بھی صاف ستھرا محسوس کررہے ہیں ۔مگر فی الواقع ایسا ہے نہیں ۔ شاید صاحب موصوف نے میرے حوالوں کو اکّا دکّا معاملہ سمجھ کر نظر انداز کردیا ہو ،سو قتل گاہ میں صرف زید وبکر کی لاشیں نہیں ہیں، حامد ، عمر ،غالب اور فہر جیسے سینکڑوں نام ہیں جنہیں بے دردی سے ذبح کیا گیا ہے آئیے ہمت کیجئے اور ستاروں کے رخ پر خون شفق کی لالی کا دیدار ایک بار پھر کر لیں ۔
۱۹۷۹؁ء میں میاں طفیل کو ایران کی *’’زیارت کا شوق‘‘* پیدا ہوتا ہے اور نوائے وقت میں یوں خبر شائع ہوتی ہے *’’ چودھری اسلم نے بتایا کہ میاں طفیل اور اسلامی تحریک کے رہنماؤں نے تہران میں آقائے خمینی کی امامت میں نماز ادا کی ۔ انہوں نے کہا کہ آقائے خمینی دنیا کے مسلمانوں کے رہنما ہیں ‘‘۔(نوائے وقت راولپنڈی ۲۵؍مارچ، ۱۹۷۹؁ء)*
قارئین ! ایمان لائیے اس رہنمائے اعظم پر جو شیخین کو گالیاں دیتا ہے فقط اور فقط اس لئے کہ اس نے ایران کے شاہی حکومت کو جمہوری حکومت میں تبدیل کردیا ہے اور اب زیادہ منظم طریقے سے سنی دنیا کوتباہ کررہا ہے اگر آپ کا فرانہ روش پر جمے ہیں تو *’’ غلامان امریکہ ‘‘* کی خوشی لقبی کھلے دل سے قبول فرمائیں ۔
اگر آنکھوں میں دیکھنے کی سکت اب بھی باقی ہو تو یہ دیکھئے ! میکدۂ ایران میں حافظ شیرازی جام بکف کھڑے ہیں ۔ انقلاب اسلامی ایران کی ساتویں سال گرہ کی خصوصی تقریب میں *امیر جماعت اسلامی لاہور اور ممبر شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان اسعد گیلانی* صاحب طویل بیان دے رہے ہیں چند جرعہ ھائے تلخ و شیریں آپ کے حوالے :
*’’ ایران کا اسلامی انقلاب اسلامی عظمتوں کا امین ہے ۔۔۔۔اسلامی انقلاب ایران کے خلاف بہت سی کتابیں چھپی ہیں اور یہ کتابیں قلیل مدت میں خرید بھی لی جاتی ہیں مگر ہمیں بحیثیت مسلمان یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ان کتابوں کو لکھنے والے اور چھاپنے والے کون لوگ ہیں یہ یا تو صہیونی بلاک سے وابستہ افراد کا کام ہے یا پھر ان کے کارندوں کا ۔۔۔۔‘‘۔
ندوی صاحب اب میں آپ سے مخاطب ہوں آپ خود دیکھ لیں یہ آپ کے اکابرین کی زبان حق ترجمان سے کیا ارشاد ہورہا ہے ۔آپ کی فاضلانہ شخصیت کے جو نقوش میرے دل و دماغ پر قائم ہیں ان کے سبب میرا خطاب یا تو قارئین سے رہا ہے یا جماعت سے ۔ *مگر خاکسار آپ کے قدموں کی خاک سے ملتمس ہے کہ جو جماعت روافض نوازی سے روافض پر ستی کی سرحدیں عبور کرچکی ہو اسے ایران کا انڈین ایڈیشن اور اسٹیج کہنا کیا واقعی غلط ہے ؟*
سلفی جماعت کی لیڈر شپ کو خبر ہوگی کہ ایک سر پھر ا شعبان بیدارؔ مذموم حرکتیں کررہا ہے تو اسے زجر و توبیخ ضرورکرے گی اور ہو نہ ہو حقہ پانی بند کردے مگر ادھر تو عالم یہ ہے کہ جماعت کےبڑے ہی اپنے بڑکپن کا ثبوت دے رہے ہیں ۔
دراصل یہی وہ آئیڈیا لوجی ہے کہ جماعت اسلامی کے خاص وعام حتی کہ عوام الناس کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ سعودیہ یہود و نصاریٰ کو سور اور شراب سے نواز رہا ہے اور تم لوگ امریکہ اسرائیل کے ایجنٹ ہو ۔الٹا چو ر کوتوال کو ڈانٹے : کبھی کبھی ہنس لینے کو جی کہتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے امریکہ سعودیہ کا آقا تسلیم ہی کر لیا جائے تو کیاروس ، برطانیہ کی غلامی کچھ ایمان واسلام میں اضافے کا باعث تو نہیں ؟ ورنہ یہ خود ایک عنوان ہے کہ ایران اور روافض امریکہ و اسرائیل کی غلامی میں کس قدر آگے ہیں ۔
اور ہاں بیان کا اہم حصہ تو لکھنے سے رہا۔ *گیلانی صاحب فرماتے ہیں قارئین شعوری ایمان لانے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جائیں : ’’۔۔۔اگر شافعی ، مالکی ،حنبلی اور حنفی وغیرہ مسلمان ہیں تو شیعہ ان سے بڑھ کر مسلمان ہیں کیونکہ اہل تشیع امام جعفر صادق کی تعلیمات کے پیرو ہیں جو امام ابوحنیفہ کے استاد ہیں ۔۔۔۔‘‘*
سنا آپ نے ؟ فرمایا جارہا ہے ایمان و اسلام کا جو استناد حضرات روافض کو حاصل ہے وہ اہل سنت کے کسی فرقے کو حاصل نہیں! یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے !
*کچھ تو ’’ مجبوریاں رہی ہونگی
یوں کوئی ’’ باوفا‘‘ نہیں ہوتا*
*بنیادی حیثیت سے یہاں تین ہی باتیں ہو سکتی ہیں:*
*اول:* یہ کہ اکابرین جماعت کا عقیدہ و منہج تو سلامت ہے مگر دربار کسریٰ کےناؤنوش نے فریفتہ کر رکھا ہے ۔
*دوم:* یہ کہ عقیدہ و منہج تبدیل ہو چکا ہے اور سب کچھ بے غرض *’’ وما اجری الا علی اللہ ‘‘* کی قبیل سے جاری و ساری ہے ۔
*تیسرا:* یہ کہ کم و بیش دونوں باتیں ہوں۔
استقرائی اصول پر ان صورتوں کے علاوہ کوئی چوتھی صورت مجھ کم فہم کو تو بالکل نظر نہیں آتی جو مذکورہ صورتوں سے قطعی مختلف ہو۔
قارئین ! میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا نپ گئے ہوں گے ۔ خدار ا اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لئے برپا یہ امت بھلا ایسا بھی کہہ سکتی مگر معاف کیجئے گا میں تو ان دل دوز مناظر کاعادی ہوچکا ہوں اس لئے آئیے قومی آواز کی بھی سن لیتے ہیں :
*۱۹۸۳؁ء دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں ایس آئی ایم کی کانفرنس منعقد کی جاتی ہے ۔ انعقاد سے چند روز قبل صدر تنظیم پریس کا نفرنس بلاتے ہیں :’’۔۔۔۔اس وقت ایران کو چھوڑ کر کسی بھی ملک میں صحیح اسلامی نظام نہیں ہے ۔ ان میں پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں ‘‘۔(قومی آواز ۱۹؍اکتوبر ۸۴؁ء)*
بصیرت کی آنکھوں سے دیکھیں کیا واقعی کفر و اسلام جیسا فرق نہیں ہے ۔ آخر اللہ کے بجائے طاغوت کے پاس اپنا فیصلہ لے جانے والے اور طاغوتی نظام کا ساتھ دینے والے کافر ہی تو ہیں ۔
کوئی کہہ سکتا ہے کہ جماعت ایران کی تائید صرف سیاسی مسائل میں کرتی ہے۔ ہر گز نہیں ۔ جماعت کے افسانہ طرازقلم کار امت کے دینی و فقہی امتیاز کو بھی رافضی خساست سے آلودہ کردینا چاہتے ہیں ۔ *وصی اقبال* جماعت اسلامی کے کارکن کتاب لکھتے ہیں *’’ اسلام کا مسئلہ شیعہ و سنی ایک ہی سکے کے دورخ ‘‘* اس کتاب میں تحریف قرآن، تقیہ، بداء ، متعہ غرض ہر تنازعہ کو اہل سنت کے لئے خوب خوب مُدبّر کیا گیا ہے ۔
ممکن ہے ہمارے قارئین بر صغیر کی اس رام کہانی سے اوب چکے ہوں تو آئیے سرزمین عرب سے بھی ہو آتے ہیں ۔ اخوانی تحریکی الغنوشی بھی آقائے خمینی کو مسلمانوں کا امام لکھتے ہیں ۔ استاد عطار تائید میں پوری کتاب لکھتےہیں ۔ *’’ موقف علماء المسلمین من الشیعۃ والثورۃ الاسلامیۃ‘‘* نامی کتاب اخوانی قلم کار کے خامۂ گہر بار سے وجود پذیر ہوتی ہے ۔ ایران اس کے پندرہ ہزار نسخے شائع کراتا ہے یہ کتاب روافض سے اتحاد کی دعوت دیتی ہے *یہ کتاب ایک طرف ایران کو اسلامی ملت قرار دیتی ہے تو دوسری طرف صدام اور اس کی فوج کو صاف کافر، ایران کے علماء و فقہاء کو مجاہد و بطل ٹھہراتی ہے ۔طھران کا مجلہ التوحید (ج:۵، شمارہ:۲۷،رجب ۱۴۰۷ھ )* اعلان کر رہا ہے کہ جسے یہ جاننے کی خواہش ہو کہ معاویہ بن ابی سفیان نے امت کو کتنا نقصان پہنچایا ہے وہ ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت ضرور پڑھے ۔
اخوانی قائد *عمر التلمسانی* اپنی کتاب *’’ ذکریات او مذکرات‘‘ص:۱۳۱* میں فرماتے ہیں : *بینما کان طلبۃ الاخوان یحتفلون بذکری نواب صفوی مؤسس جماعۃ ’’ فدائیان اسلام ‘‘ الشیعیہ فی ایران ۔۔۔۔‘‘*
حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے
اگر انصاف جاں بلب نہیں ہے تو
*ڈاکٹر صاحب سے بصد ادب پوچھنا چاہوں گا کہ معمول کی ملاقاتیں بھلا ایسا ہی رنگ لاتی ہیں ؟ اگر واقعی یہ معمول کی ملاقاتوں کا ہی رنگ ہے تو معمول سے جدا غیرمعمولی ملاقاتوں کی حشر سامانیوں کا اندازہ بھی کیسے کیا جا سکتا ہے ۔*
ندوی صاحب شکوہ کناں ہیں ایرانی شیعہ ہر سال حج کو جاتے ہیں یہ آپ لوگوں کو کیسے قبول ہے ؟
سعودی حکومت کے ذمہ داران ایران کے سرکاری و غیر سرکاری وفود سے برابر ملتے ہیں یہ کیسے قبول ہے ؟
ہندوستان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ میں شیعہ کی نمائندگی ہے اور جمعیت اہل حدیث بھی بورڈ کی ممبر شپ رکھتی ہے یہ سب قبول ہے مگر جماعت کے لوگ کسی ایرانی وفد سے ملاقات کرلیں تو اسے امت مسلمہ کے خلاف سازش قرار دیا جاتا ہے ۔
قارئین دیکھئے کتنی سادگی ہے ڈاکٹر صاحب کےبیان میں :
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلّا ہے نہ زاہد نہ حکیم
*ڈاکٹر صاحب جماعت شوق سے ملاقاتیں کرے ،زیارتیں کرے ،دعوتیں شیئر کرے ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے۔ مگر جماعت نے اپنے طرز عمل ، طرز فکر اور طرز بیاں سے یہ اعلان کردیا ہے کہ جماعت امت کو روافض کا با ج گُزار بنا دینا چاہتی ہے بورڈ کے بیشتر بلکہ ۹۵ فیصد لوگ دیوبندی ہیں سلفیوں کی جماعت اسلامی سے زیادہ دیوبندی بھائیوں سے ٹھنی رہتی ہے مگر انہیں تو رافضیت کا خادم نہیں بتایا گیا آپ حضرات پر ہی یہ مہربانی کیوں کی گئی ۔*
یہ تو ایسے ہی ہے کہ مختار عباس نقوی شکوہ کناں ہوجائے : *جناب دیکھئے مشرکین سے صلح تو محمد رسو ل اللہ ﷺ نے کیا ہے ،سفر ہجرت میں ایک کافر ہی آپ کا راہ نما تھا سومسلمان مجھے بی جے پی اور آرایس ایسا کا ایجنٹ کیوں کہتےہیں ؟*
تب تو جمال عبد الناصر، انورسادات اور آج موجودہ سیسی کو یہ اجازت ملنی چاہئے کہ رسول اللہ بھی تو یہود و نصاریٰ سے معاملات کرتے تھے ، ان کے یہاں دعوتیں کھاتے تھے ، ان سے معاہدے کرتے تھے سو امت ہمیں کیونکر مطعون کررہی ہے ؟
ندوی صاحب سوبات کی ایک بات کہ جماعت کے جس کلّیے سے ہم کو کُل اختلاف ہے وہ خدمتِ روافض ہے اور منہج و عقیدہ کو بالائے طاق رکھ دینا ہے اور بس ۔ باقی باتیں تو اور بھی ہیں ! واللہ ، تاللہ جو بیان کی گئی ہیں اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیںمگر آداب حائل ہیں اجازت چاہوں گا۔
*سرسے لے کر پاؤں تک ساری کہانی یاد ہے*
*آج بھی وہ شخص مجھ کو منہ زبانی یاد ہے*

3=تعبیر کا فتنہ
بقلم شعبان بیدار
( *جماعت اسلامی ہند کے رہنماؤں کی ایرانی وفد سے ملاقات پر ہورہی بحث پر کے تناظر میں* )
چند دنو ں کی بات ہے شوسل میڈیاپر کسی نے ایک تصویر ڈالی اس تصویرمیں ایران کے رافضی علماء جماعت اسلامی کے دہلی مرکز میں ارباب جماعت سے محو گفتگو ہیں۔ تاثر یہ دیا گیا کہ یہ ابھی چند روز کا واقعہ ہے، اور پھر یہ تصویر مختلف گروپوں میں گردش کرنے لگی ۔ ظاہر ہے ایران اور جماعت اسلامی کے ماضی و حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف طرح کی باتیں کہی جانے لگیں، تاہم حقیقت پسند علماء کرام نے یہ وضاحت چاہی کہ یہ تصویر کب کی ہے ؟ *دریں اثناء جماعت اسلامی کی انتہائی فاضل شخصیت نے یہ وضاحت کی کہ یہ تصویر ۲۰۱۴؁ء کی ہے ۔ یہ شخصیت ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی ہےـ* آپ بہت سلجھےہوئے قلم کار ہیں اور مسائل کی وضاحت انتہائی صاف ستھرے انداز میںپیش کیا کرتے ہیں، آپ کی شہرت دفاع سنت کے حوالے سے بھی ہے اور راقم کو خود بھی بعض ایسے مسائل میں موصوف کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے،جن میں جماعت اسلامی کے نقطۂ نظرسے کوئی بھی انصاف پسند اور کتاب و سنت کا حقیقی خوشہ چیں اتفاق نہیں کر سکتا ، *مگرمیں نے پایا مولانانےجماعتی موقف کے برخلاف انتہائی سادگی سے حقیقت کھول کر پیش کیا ۔*
موصوف کی علمی عظمت اور فکری بالیدگی کے باوجود یہ کہنا ضروری ہوگیاہے کہ آپ بہت سی حقیقتوں کو فراموش کر گئے ، اشاروں اشاروں میں طنز و تعریض سے پر شیریں کلامی میں جو کچھ معانی پوشیدہ ہیں وہ آپ کی علمی وسعت سے میل نہیں کھاتیں۔مولانا نے لکھا کہ *’’ آج کل……جماعت اسلامی ہند کے خلاف ایک مہم چھڑی ہوئی ہے* ……مہم چھیڑنا کیا کچھ معنی رکھتا ہے صاحب موصوف پر عیاں ہے ۔
مولانا آگے لکھتے ہیں : *’’ جماعت اسلامی فرشتوں کی جماعت نہیں بلکہ انسانوں کی ایک اجتماعیت ہے ‘‘۔* بلاشبہ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے مگر اس عبارت پر مجھے شدت سے مولانا مودودی علیہ الرحمہ یاد آگئے وہ بھی کہتے تھے *بزرگوں سے غلطی ہوسکتی ہےاور غلطی ہوجانے کے بعد بھی انسان بزرگ رہ سکتا ہے۔ مگر اس پردۂ رنگیں کے پیچھے تعبیر کی روشنی میں مولانا نے فکر و نظر کی دنیا کو کس قدر سیاہ کیا دنیا جانتی ہے۔* آپ نے صحیح کہا ہے کہ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے مگر انسانوں کی جماعت ہونے کا کیا یہی معنی ہے کہ ولاء و براء اور اتحاد و یگانگت کے بنیادی اصولوں کو بھی طاق پر رکھ دیا جائے ۔
مولانا لکھتے ہیں کہ: *”جس طرح جماعت نے سعودی وفود پر نکیر کیا ہے اسی طرح ایرانی وفود کو بھی متنبہ کیا ہے ۔”* اول تو آپ کے انداز بیان میں ایران اور سعودیہ یکساں قرار پاتے ہیں اور یہاں یکسانیت تو دوررہی جماعت کے نزدیک ایران اور سعودیہ کے مابین کفر و اسلام جیسا فرق روا رکھا جاتا ہے ۔ *اعتراض اس بات پر نہیں ہے کہ جماعت نے دونوں کے سامنے احتجاج درج کرایا یا نہیں؟ اعتراض یہ ہے کہ جماعت کا سہ روزہ پھر اس کے رسائل ، کتابیں اور قلم کاروں کے مضامین ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ایک کے لئے دشمنانہ انداز ہے دوسرے کو محبوبانہ تنبیہ، ایک سے دلیرانہ گفتگو ہے جس میں ’’کلمۃ حق عند سلطان جائر‘‘ کی شان نمایاں ہے دوسرے سے مؤدبانہ التماس ہے جس میں حکمرانوں کی سمع و طاعت کا دل آویز حسن موجود ہے ۔*
جماعت اسلامی کا لٹریچر شاندار ہے اس کے قلمکاروں کے یہاں اسلوب بیان کی دلکشی اور زبان و بیان کا سحر پایا جاتا ہے ۔ پہاڑ کو ٹیلہ دکھا نے اور ٹیلہ کو پہاڑ دکھانے کی ماہرانہ تکنیک ان کے پاس ہے ۔ سلفی جماعت کے پاس یہ رنگ موجود نہیں ہے ۔ دراصل یہی وہ رنگ ہے کہ حقیقت جادوگری کی نذر ہوجاتی ہے ۔ اور کم لوگ ہوتے ہیں جو زبان وبیان کے جادو سے اصل حقیقت کو الگ کرکے دیکھ سکیں ۔ جماعت کے قلم کار اپنے اس ہنر کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
*مولانا نے صحیح کہا کہ یہ تصویر ۲۰۱۴ ؁ءکی ہے لیکن یہ ایسے ہی جیسے کوئی کہے: قتل کی جو ویڈیو میری ذات سے جوڑ کر پھیلائی جارہی ہے اس کا تعلق موجودہ کیس سے نہیں ہے، بلکہ وہ بہت پرانی ویڈیوہے جو میں نے فلاں کے ساتھ انجام دیا تھا ۔* اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ارباب جماعت کو ایران کے مقدس شیوخ سے ابھی جلد ہی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے یا یہ روداد پارینہ ہے۔ ہر گز نہیں ! جماعت اسلامی بہت ذہین اور دانشورلوگوں کی جماعت ہے – روافض کے مقابلے میں صفر- وہ ایسی غلطی بھلا کیسے کر سکتی ہے کہ شام کے بچوں اور عورتوں کی چیخیں ابھی فضا میں گونج رہی ہوں اور جماعت ایرانی صوفیاء کی محفل سماع میں شریک ہوجائے ۔
*اصل مسئلہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی ایران کا انڈین ایڈیشن اور اسٹیج بن چکا ہے ایرانی افکار کو جماعت اسلامی کے ارباب قلم مُدبَّر کرکے اہل سنت کے لئے قابل ہضم بنارہے ہیں ۔*
یہ روافض کی مدبّرانہ صلاحیت اور ان کی ذہانت ہے کہ جماعت اسلامی کو حرم سے زیادہ قُم کی زیارت کاشوق پیدا ہوگیا ہے، خلافت و ملوکیت کی بے آمیز اور خالص پذیرائی ہی ہے کہ ہمارے جماعتی احباب آستانۂ خمینی پر نقد جاں ہا ر بیٹھے ۔ جمہوریت اور ملوکیت کا نظریہ جماعت کا ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جس پر ولاء وبراء کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اس قربان گاہ میں عظمت صحابہ، تقدس اہل بیت ، قرآن کی حقیقت ، سنت کی بلندی سب کی حیثیت بہت معمولی رہ گئی ہے ۔
*ہم نے کب اس کا انکار کیا ہے کہ آ پ رسمی احتجاج درج نہیں کراتے مگر وہ احتجاج کیسا ہے ذرا روشن ماضی کے سیاہ اوراق الٹنے کی زحمت کیجئے کہ ماضی ہر کسی کا بہت اہم ہوتا ہے ۔* اور اس لئے بھی کہ حال میں اب کہنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں ہے ۔ *اس لئے ہم ایرانی قائدین سے مخلصانہ گزارش کرتے ہیں کہ انقلاب بر آمد کرنے کے جوش میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔دوسری طرف سعودی حکومت کو بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے جو لوگ اس ہنگامے میں شریک ہوئے وہ بھی اسلامی دنیا کی افرادی طاقت تھے اللہ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے ۔*
*یہ صحیح ہے کہ حرمین شریفین میں امن کی برقراری اس کی ذمہ داری ہے لیکن اس سلسلے میں اسے ذمہ داری پوری کرنے کے لئے اگر طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے تو اندھادھند استعمال نہیں ہونا چاہئے ‘‘۔ ( سہ روزہ دعوت ؍۷؍اگست ۸۷؁ء)*
رکئے! اگر اب بھی وجدان تلملایا نہ ہو اور ضمیر نے میان سے چمکتی تلوار نہ نکالی ہو توقتل کا یہ منظر بھی ملاحظہ کرلیں :
*’’ اس کے جواب کی سیدھی ذمہ داری سعودی عرب کو جانی چاہئے ……اسے ایرانیوں کی غلطی کہہ لیجئے کہ وہ اسلامی نظام کی باتیں حج کے موقع پر بھی کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( ہندی رسالہ کانتی ۱۶۔۲۸ ؍ اگست ۸۷؁ء)*
مولانا تو سمجھ گئے ہوں گے مگر ہمارے قارئین ہو سکتا ہے نہ سمجھے ہوں ـ *کہنا یہ چاہتے ہیں کہ خمینی انقلاب برحق ہےاور یہ انقلاب حج کے موقع پر بھی برآمد کیا جاسکتا ہے ۔بس ذرا اعتدال – نفاق – کادامن تھامےرکھنا چاہئے صاف نظر آرہا ہے کہ خاندان والے اپنے خاندان کے مجرم لونڈے کو محبوبانہ تنبیہ کررہے ہیں کہ بیوقوف تجھے اس کے گھر جانا ہی تھا تو دن ہی میں کیوں چلا گیا رات میںچلا جاتا۔*
مگر رات کا انتظار کون کرے
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا
قارئین : جانے دیجئے رات گئی بات گئی *’’کلام اللیل یمحوہ النھار ‘‘* ، ذرا تازہ کلام بھی سماعت فرمائیں :
اردو ٹائمز ۱۲؍اپریل ۲۰۱۵ ؁ء میں عمر فراہی نے جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سکریٹری عبد الغفار کا یہ بیان نقل کیا…… *تنازعہ علی عبد اللہ صالح کا باغیوں کے ساتھ مل کر بغاوت اور سعودیہ عربیہ کے درمیان کھڑا ہوا یہاں پر ایران کا نام کیوں لیا جارہا ہے ؟*
نقل در نقل کےسبب عین ممکن ہے کچھ فرق آگیا ہو مگر اس میںکیاشک ہو سکتاہے کہ جماعت اسلامی کی یہ اعلیٰ سطحی حق گوئی ہر جگہ موجود ہے ۔ اپنے رضاعی بھائی ایران کو سکریٹری صاحب کس اداسےبچارہے ہیں قابل عبرت ہے ۔
چونکہ اب ایران پردے ہٹا کر سب کے سامنے آگیا ہے تو رسمی بیانات کم ازکم آئیں گے ہی ،کیا ہماری یہ انقلابی جماعت اپنے اندر یہ جرأت پاتی ہے کہ کربلا اور قُم کی زیارتیں منسوخ کردے ، ایران سے مالی امداد جواخوان اور جماعت کو ملتی ہے وہ لوٹا دی جائے ،کاش اسلوب بیان میں اس کاٹ کی ایک جھلک ہی آجاتی جو سلفیوں اور سعودیہ عربیہ کے سلسلے میں ان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اے بسا آرزوکی خاک شد۔
جماعت کو اگر مخدومانہ سطح پر تنازل ہی کرنا تھا تو ہندوستان کے بریلویوں سے کرلیتے ۔ نعرہ یا رسول اللہ ، مزاروں پر حاضری ، اعراس میں شرکت ، روافض کی صحابہ دشمنی ،قرآن دشمنی سے کہیں کمتر چیزیں ہیں ۔ یمن کے اور مصر کے مسئلے میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کہیں آبشاروں میں بھی آگ نہ لگا دی جائے ،اخبارات میں قلم کی سیاہ راکھ کے سوا کچھ نظرہی نہ آتا تھا مگر شام کے مسئلے میں رسمی احتجاج ؟ وہ بھی جسے صرف آپ جانتے ہیں ۔بھلا جب امت کے ضمیر کی شام ہوجائے تو صبح کی آرزو ہی کی جا سکتی ہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے بات اخوان اور سعودی موقف کی چھیڑی ہے ۔ ہم کہتے ہیں اب اخوان اخوان کہاں رہے وہ تو سراپا عدوان بن چکے ۔ تجدد پسندی ، رافضیت نوازی کی وہ وہ وارداتیں ہیں کہ قلم لکھنے سے خوف کھاتا ہے ۔ *رئیس الاخوان نے مجلۃ الغرباء اور مجلۃ الأمان (۱۹۸۹) میں خمینی کی تعزیت کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کا قائد کہا وہ بھی عند اللہ !*
محمد الغزالی نے *’’ کیف نفہم الاسلام ‘‘* میں روافض کو مالکی حنبلی جیسا ایک فرقہ بتایا جو حقیقت دین میں اہل سنت سے متفق ہے ۔ اردن کے یوسف عظم نے *’’الخمینی زعیمٌ وامام ٌ ‘‘* کہا ۔ حسن ترابی نے مسلمان کو دین بدلنے کا مجاز ٹھہرایا ۔ بھلا شیخ قرضاوی ، ڈاکٹر سباعی، رشید رضا، شیخ محمد عرفہ، عبد المنعم النمر، علی طنطاوی نے جب اعلان کردیا ہو کہ روافض کا مقصد ’’تقریب بین الشیعۃ والسنۃ ‘‘نہیں تشیع کی دعوت ہے سنی علاقوں میں ایران اپنے ملیشیا کے ذریعہ یلغار کرتا ہے *تو پھربتائیے کہ یہ ملاقاتیں اورمعمول کی ملاقاتیں کیا ہیں اور کیسی ہیں ؟ کیوں اتنی الفت جماعت کو ایران اور روافض سے ہے امت اس کا جواب چاہتی ہے ۔*
خلاصہ یہ کہ یہ تصویر وصویر کوئی ایسی بات نہیں ہے اصل مسئلہ جماعت کا حقیقی چہرہ ہے کا ش جماعت اسلامی اور اخوان کےطرز فکر اور طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے بڑے کوئی سنجیدہ دستاویزی کام کرتے یا کم ازکم کچھ نوجوانوں کے ذریعہ یہ کام کراتے مگر افسوس ہماری سلفی جماعت

 

مصنف – ڈاکٹر اجمل منظور

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s