امام کعبہ گرفتار ۔ کیا ہے سچ؟

ان دنوں شیخ  مکہ صالح الطالب کی گرفتاری کی خبر سوشل میڈیا پر وائرس بن چکی ہے – ہر شخص ان كی گرفتاری کے بارے میں بات چیت، ٹویٹنگ اور بحث کر رہا ہے، اور مبینہ رپورٹوں کا کہنا ہے کہ وہ گرفتار کر ليے گۓ  ہيں کیونکہ انہوں نے مخلوط اجتماعوں اور سعودیه کی جدیدیت کے منصوبوں کے خلاف بات کی.

یہ خبر پہلی بار ۱۹ اگست ۲۰۱۸ کو ایک غیر معمولی، گمنام ٹویٹر اکاؤنٹ @ m3takl_en  (ضمیر کے قیدیوں) کی طرف سے پیش کی گئی تھی.

POC

رپورٹ واضح طور پر کہتی ہے ، ‘ہم گرفتاری کی تصدیق’ کرتے ہیں .

سوالات پیدا ہوتے ہیں، یہ ‘ہم’ کون ہے؟ انہیں کہاں سے خبر ملی تھی؟ کن سے وہ خبر ملی؟ وہ  خبر کیسے ملی؟ وہ گرفتاری کی تصدیق کیسے کر رہے ہیں؟ وه کونسی سرکاری رپورٹ تهی جس کی بنیاد پر وہ گرفتاری کی تصدیق کرتے ہیں؟

یہ مزید کہتے ہیں کہ، ‘یہ کہا جاتا ہے کہ گرفتاری کی وجہ’ – کس طرح سے غیر فعال آواز میں ایک خبر کی رپورٹ لکھی جا سکتی ہے؟ خبروں کی رپورٹیں ہمیشہ فعال آواز میں لکھی جاتی ہیں، قارئین کو واضح تصویر پیش کرتے ہوۓ .

کہا یہ جانا چاهيے تها ‘- کس حكومتی بااعتمات ذرائع نے کہا؟ یہ کب کہا گیا تھا؟

یہ خبر ایک غیر معمولی گمنام ٹویٹر اکاؤنٹ سے آتی ہے، اور رپورٹ خود ہی مشکوک ہے.

قطر کی الجزیرہ نے خبر كا ذریعہ مندرجہ ذیل بیان کردہ غیر واضح مشكوك ٹویٹر اکاؤنٹس بتايا ہے.  باقی ہر مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے چینلز نے الجزیرہ کو ان  رپور ٹس کا ذریعہ قرار دیا.

لہذا سعودی عرب کے خلاف مبینہ طور پر پورا سلسلہ جھوٹے پروپیگنڈے، مشکوک اور جعلی  ذرائع پر مبنی ہے.

الجزیرہ ماضی میں بهی جھوٹی خبريں پھیلانے کی وجه سے بدنام اور مشہور رها ہے. جیسے  -ولی عہد کی موت، ینبو میں ایک امام کی گرفتاری، نیوم Neom  شہر میں عریاں ساحلوں کا افتتاح، وغیرہ وغیرہ –

 الجزیرة کی طرح دوسرے قطری میڈیا چینلز –

 MiddleEastEye and MiddleEastMonitor

بهی فوری طور پر غلط پروپیگنڈا پھیلانے کا کردار ادا کرتے ہیں.

الجزیرہ کے سینئر سیاسی تجزیہ کار ايک اسرائیلی شہری ماروان بشار  ہے، جن کے بھائی عزیز بشارا اسرائیلی پارلیمان کے ایک رکن ہیں. اس کے علاوہ بےظمیر مہدی حسن – ایک ایرانی شیه – الجزیرة انگریزی کے پریزنٹر، جو سنی، سنت اور عرب قوموں کے خلاف پروپیگنڈا کے لئے جانا جاتا ہے.

سعودی عرب اور بحرین میں بغاوت، مظاہرین اور مظاہروں کو فروغ دینے میں الجزیرة نے ایک اہم کردار ادا کیا- اور یہ ایک اہم وجوہات میں سے ایک ہے جس كی وجه سے سعودی عرب نے قطر سے الجزیرة کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

جو لوگ سوشل میڈیا پر اس خبر کو پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے مقاصد منحوس ہیں- ان کی خواہش ہے کہ سعودی عرب کے امام بهی حکمرانوں کے خلاف بغاوت، غداری اور بدلے کی قیادت اور تبلیغ کريں- جيسا لیبیا میں کیا گيا تھا، اور ويسا ہی سعودی عرب کا حشر هو-

یہ ایک دن کے طور پر واضح اور عياں ہے کہ سعودی عرب کے خلاف جعلی پروپیگنڈا پھیلانے کی جان بوجھ کی کوشش کی گئی ہے.

 ہماری دعايں اور حمایت سعودی عرب، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں كے ساتھ ہیں اور ہم انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ميں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.

مصنف: ابو طلحة ضحاك

ترجمہ: أم ھمايون

انگریزی میں پڑھیں – Read in English

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s